حساس زہرا ہنزائی

ذرا آؤ تو مل کر دوریوں کا وار کرتے ہیں
دغا اور رنجشوں کو ختم، الفت عام کرتے ہیں

محبت اور عقیدت کے ہی پرچم گاڑ کر ہر سو
جہاں میں امن و آشتی کو نہایت عام کرتے ہیں

مذاہب اور سیاست سے ابهی کچه بے نیاز ہو کر
انوکها اک سبق انسانیت کا عام کرتے ہیں

چلو اب اپنے دکه کو بهول کر سوچیں یتیموں کا
اب آؤ ان کو اپنے گهر کے جیسا پیار دیتے ہیں

سسکتے اور بلکتے طفل اور بے آسرا مائیں
اگر مانو تو ہم ان کے بهی تهوڑا کام آتے ہیں

نہ جانے کب سے پیاسی ہیں حساس بستیاں غریبوں کی
کمر باندهو اے ہم وطنو، انهیں سیراب کرتے ہیں

حساس زہرا  ہنزائی
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s